کُفّارِ قریش ایک دن کعبۂ مُشرَّفہ میں جمع تھے،نبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّم ، شاہِ آدم و بنی آدم ، رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی قریب ہی نَماز ادا فرما رہے تھے، ابوجَہْل ایک بھاری پتھّر اُٹھا کر دُکھیادلوں کے چَین، رحمتِ کونین، رسولِ ثَقَلَین، نانائے حَسَنَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سرِ مُبارک کو معاذَاللّٰہ سَجدے کی حالت میں کُچلنے کے ناپاک ارادے سے آگے بڑھا اور جُوں ہی نزدیک پہنچا تو ایک دم بوکھلا کر پیچھے کی طرف بھاگا، کُفّارِ ناہنجار نے حیر ت سے پوچھا: اَبُوالْحَکَم! تجھے کیا ہوا؟ بولا:میں جُوں ہی قریب پہنچا میرے تو اَوسان ہی خطا ہوگئے، میں نے دیکھا کہ ایک دَہشت ناک سَراور خوفناک گردن والا بھیانک اُونٹ مُنہ کھولے دانت کچکچاتا ہوا مجھے ہڑپ کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے!ایسا بھیانک اُونٹ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم، شاہِ آدم و بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ جبرائیل(عَلَیْہِ السَّلَام )تھے ،اگر ابوجہل اور نزدیک آتا تو ...